حقیقتوں کا جلال دیں گے صداقتوں کا جمال دیں گے
کلام: کلیم عاجز
حقیقتوں کا جلال دیں گے صداقتوں کا جمال دیں گےتجھے بھی ہم اے غم زمانہ غزل کے سانچے میں ڈھال دیں گے
تپش پتنگوں کو بخش دیں گے لہو چراغوں میں ڈھال دیں گےہم ان کی محفل میں رہ گئے ہیں تو ان کی محفل سنبھال دیں گے