عروج فیاض کی آواز میں
جاگنے والو تا بہ سحر خاموش رہو
کلام: حبیب جالب · محفل: دل پر جو زخم ہیں وہ دکھائیں کسی کو کیا (حبیب جالب) · 2025-11-26
«جاگنے والو تا بہ سحر خاموش رہو» حبیب جالب کا کلام ہے، جسے عروج فیاض نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «دل پر جو زخم ہیں وہ دکھائیں کسی کو کیا (حبیب جالب)» میں 26 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 1 سیکنڈ ہے۔
جاگنے والو تا بہ سحر خاموش رہوکل کیا ہوگا کس کو خبر خاموش رہو
کس نے سحر کے پاؤں میں زنجیریں ڈالیںہو جائے گی رات بسر خاموش رہو