جاگنے والو تا بہ سحر خاموش رہو
کلام: حبیب جالب
جاگنے والو تا بہ سحر خاموش رہوکل کیا ہوگا کس کو خبر خاموش رہو
کس نے سحر کے پاؤں میں زنجیریں ڈالیںہو جائے گی رات بسر خاموش رہو
دل پر جو زخم ہیں وہ دکھائیں کسی کو کیا (حبیب جالب)
مہمان شاعر: حبیب جالب
جاگنے والو تا بہ سحر خاموش رہوکل کیا ہوگا کس کو خبر خاموش رہو
کس نے سحر کے پاؤں میں زنجیریں ڈالیںہو جائے گی رات بسر خاموش رہو