حال دل میں سنا نہیں سکتا
کلام: اکبر اللہ آبادی
حال دل میں سنا نہیں سکتالفظ معنیٰ کو پا نہیں سکتا
عشق نازک مزاج ہے بے حدعقل کا بوجھ اٹھا نہیں سکتا
ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہوجاتے ہیں بدنام (اکبر الہ آبادی)
مہمان شاعر: اکبر اللہ آبادی
حال دل میں سنا نہیں سکتالفظ معنیٰ کو پا نہیں سکتا
عشق نازک مزاج ہے بے حدعقل کا بوجھ اٹھا نہیں سکتا