6 اشعار

جاگنے والو تا بہ سحر خاموش رہو

Jaagne walo ta ba sahar khamosh raho

جاگنے والو تا بہ سحر خاموش رہو

«جاگنے والو تا بہ سحر خاموش رہو» حبیب جالب کا کلام ہے، جسے عروج فیاض نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «دل پر جو زخم ہیں وہ دکھائیں کسی کو کیا (حبیب جالب)» میں 26 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 1 سیکنڈ ہے۔

جاگنے والو تا بہ سحر خاموش رہوکل کیا ہوگا کس کو خبر خاموش رہو

کس نے سحر کے پاؤں میں زنجیریں ڈالیںہو جائے گی رات بسر خاموش رہو

شاید چپ رہنے میں عزت رہ جائےچپ ہی بھلی اے اہل نظر خاموش رہو

قدم قدم پر پہرے ہیں ان راہوں میںدار و رسن کا ہے یہ نگر خاموش رہو

یوں بھی کہاں بے تابئ دل کم ہوتی ہےیوں بھی کہاں آرام مگر خاموش رہو

شعر کی باتیں ختم ہوئیں اس عالم میںکیسا جوشؔ اور کس کا جگرؔ خاموش رہو

— حبیب جالب

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں