مقرر

افراسیاب

@WadaySaab

15
پیش کردہ کلام
18
محفلوں میں شرکت
افراسیاب کی آواز میں

ایسا مت کہہ کہ یہاں تو غلطی سے آیا

کلام: جواد شیخ · محفل: جو کہیں کے نہیں رہتے وہ کہاں جاتے ہیں جواد شیخ · 2026-02-12

«ایسا مت کہہ کہ یہاں تو غلطی سے آیا» جواد شیخ کا کلام ہے، جسے افراسیاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «جو کہیں کے نہیں رہتے وہ کہاں جاتے ہیں جواد شیخ» میں 12 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 47 سیکنڈ ہے۔

ایسا مت کہہ کہ یہاں تو غلطی سے آیادل وہ حجرہ ہے جہاں غم بھی خوشی سے آیا

خامشی آئی دریدہ دہنی سے تیریدیکھنا مجھ کو تری کم نظری سے آیا

مکمل کلام پڑھیں ‹

مزید پیش کردہ کلام

سب دیکھیں
  1. 01 یہ دنیا تم کو راس آئے تو کہنا Yeh duniya tum ko raas aaye to kehna جاوید اختر آواز میں دستیاب
  2. 02 شکر ہے خیریت سے ہوں صاحب Shukar hai khairiyat se hoon sahib جاوید اختر آواز میں دستیاب
  3. 03 داد تو بعد میں کمائیں گے Daad to baad mein kamaenge جواد شیخ آواز میں دستیاب
  4. 05 اگر اے نسیم سحر ترا ہو گزر دیار حجاز میں Agar aye naseem-e-sehar tera ho guzar diyar-e-hijaz mein اختر شیرانی آواز میں دستیاب
  5. 06 غم خانۂ ہستی میں ہے مہماں کوئی دن اور Gham-khana-e-hasti mein hai mehman koi din aur اختر شیرانی آواز میں دستیاب
  6. 07 لہو نہ ہو تو قلم ترجماں نہیں ہوتا Lahoo na ho to qalam tarjuman nahin hota وسیم بریلوی آواز میں دستیاب
  7. 08 سبھی کا دھوپ سے بچنے کو سر نہیں ہوتا Sabhi ka dhoop se bachne ko sar nahin hota وسیم بریلوی آواز میں دستیاب
  8. 09 مجھے بجھا دے مرا دور مختصر کر دے Mujhe bujha de mera daur mukhtasar kar de وسیم بریلوی آواز میں دستیاب