افراسیاب کی آواز میں
ایسا مت کہہ کہ یہاں تو غلطی سے آیا
کلام: جواد شیخ · محفل: جو کہیں کے نہیں رہتے وہ کہاں جاتے ہیں جواد شیخ · 2026-02-12
«ایسا مت کہہ کہ یہاں تو غلطی سے آیا» جواد شیخ کا کلام ہے، جسے افراسیاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «جو کہیں کے نہیں رہتے وہ کہاں جاتے ہیں جواد شیخ» میں 12 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 47 سیکنڈ ہے۔
ایسا مت کہہ کہ یہاں تو غلطی سے آیادل وہ حجرہ ہے جہاں غم بھی خوشی سے آیا
خامشی آئی دریدہ دہنی سے تیریدیکھنا مجھ کو تری کم نظری سے آیا