6 اشعار

ایسا مت کہہ کہ یہاں تو غلطی سے آیا

Aisa mat keh ki yahan to ghalti se aaya

ایسا مت کہہ کہ یہاں تو غلطی سے آیا

«ایسا مت کہہ کہ یہاں تو غلطی سے آیا» جواد شیخ کا کلام ہے، جسے افراسیاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «جو کہیں کے نہیں رہتے وہ کہاں جاتے ہیں جواد شیخ» میں 12 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 47 سیکنڈ ہے۔

ایسا مت کہہ کہ یہاں تو غلطی سے آیادل وہ حجرہ ہے جہاں غم بھی خوشی سے آیا

خامشی آئی دریدہ دہنی سے تیریدیکھنا مجھ کو تری کم نظری سے آیا

فتح مندی کا جو اک رنگ ہے اس چہرے پرسرخ روئی سے نہیں دل شکنی سے آیا

ورنہ راہیں تو مری سمت کئی آتی تھیںاس کو عجلت تھی سو بے راہروی سے آیا

اب کوئی روک رہا ہو تو میں رک جاتا ہوںمجھ میں یہ وصف غریب الوطنی سے آیا

موت کا خوف بڑا خوف ہے لیکن جوادؔجو مجھے اس کی توجہ میں کمی سے آیا

— جواد شیخ

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں