لہو نہ ہو تو قلم ترجماں نہیں ہوتا
کلام: وسیم بریلوی
لہو نہ ہو تو قلم ترجماں نہیں ہوتاہمارے دور میں آنسو زباں نہیں ہوتا
جہاں رہے گا وہیں روشنی لٹائے گاکسی چراغ کا اپنا مکاں نہیں ہوتا
تیری مرضی کے مطابق نظر آئیں کیسے وسیم بریلوی
مہمان شاعر: وسیم بریلوی
لہو نہ ہو تو قلم ترجماں نہیں ہوتاہمارے دور میں آنسو زباں نہیں ہوتا
جہاں رہے گا وہیں روشنی لٹائے گاکسی چراغ کا اپنا مکاں نہیں ہوتا
سبھی کا دھوپ سے بچنے کو سر نہیں ہوتاہر آدمی کے مقدر میں گھر نہیں ہوتا
کبھی لہو سے بھی تاریخ لکھنی پڑتی ہےہر ایک معرکہ باتوں سے سر نہیں ہوتا
مجھے بجھا دے مرا دور مختصر کر دےمگر دیئے کی طرح مجھ کو معتبر کر دے
بکھرتے ٹوٹتے رشتوں کی عمر ہی کتنیمیں تیری شام ہوں آ جا مری سحر کر دے