داد تو بعد میں کمائیں گے
کلام: جواد شیخ
داد تو بعد میں کمائیں گےپہلے ہم سوچنا سکھائیں گے
میں کہیں جا نہیں رہا لیکنآپ کیا میرے ساتھ آئیں گے
جو کہیں کے نہیں رہتے وہ کہاں جاتے ہیں جواد شیخ
مہمان شاعر: جواد شیخ
داد تو بعد میں کمائیں گےپہلے ہم سوچنا سکھائیں گے
میں کہیں جا نہیں رہا لیکنآپ کیا میرے ساتھ آئیں گے
ایسا مت کہہ کہ یہاں تو غلطی سے آیادل وہ حجرہ ہے جہاں غم بھی خوشی سے آیا
خامشی آئی دریدہ دہنی سے تیریدیکھنا مجھ کو تری کم نظری سے آیا