مقرر

یادرفتگان

@Yaad_e_Raftgaan

53
پیش کردہ کلام
56
محفلوں میں شرکت
یادرفتگان کی آواز میں

دریا کی موج ہی میں نہیں اضطراب ہے

کلام: کیف احمد صدیقی · محفل: تنہائیوں کو سونپ کے تاریکیوں کا زہر کیف احمد صدیقی · 2026-01-12

«دریا کی موج ہی میں نہیں اضطراب ہے» کیف احمد صدیقی کا کلام ہے، جسے یادرفتگان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «تنہائیوں کو سونپ کے تاریکیوں کا زہر کیف احمد صدیقی» میں 12 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 42 سیکنڈ ہے۔

دریا کی موج ہی میں نہیں اضطراب ہےسنگ رواں کے دل میں بھی اک زخم آب ہے

ہر فرد آج ٹوٹتے لمحوں کے شور میںعصر رواں کی جاگتی آنکھوں کا خواب ہے

مکمل کلام پڑھیں ‹

مزید پیش کردہ کلام

سب دیکھیں
  1. 01 یہ سانحہ بھی ہوا ہے تری خدائی میں Ye saanha bhi hua hai teri Khudai mein راکب مختار آواز میں دستیاب
  2. 02 نئے غمزے نئے انداز نظر آتے ہیں Naye ghamze naye andaaz nazar aate hain پروین ام مشتاق آواز میں دستیاب
  3. 03 عرض الم بہ طرز تماشا بھی چاہیے Arz-e-alam ba tarz-e-tamasha bhi chahiye جواد شیخ آواز میں دستیاب
  4. 04 تو کیا یہ آخری خواہش ہے اچھا بھول جاؤں To kya yeh aakhri khwahish hai achha bhool jaaun جواد شیخ آواز میں دستیاب
  5. 05 کام آ سکیں نہ اپنی وفائیں تو کیا کریں Kaam aa sakein na apni wafayein to kya karein اختر شیرانی آواز میں دستیاب
  6. 06 دل و دماغ کو رو لوں گا آہ کر لوں گا Dil-o-Dimagh Ko Ro Loon Ga Aah Kar Loon Ga اختر شیرانی آواز میں دستیاب
  7. 07 نہیں کہ اپنا زمانہ بھی تو نہیں آیا Nahin ke apna zamana bhi to nahin aaya وسیم بریلوی آواز میں دستیاب
  8. 08 تحریر سے ورنہ مری کیا ہو نہیں سکتا Tehreer se warna meri kya ho nahin sakta وسیم بریلوی آواز میں دستیاب