یادرفتگان کی آواز میں
دریا کی موج ہی میں نہیں اضطراب ہے
کلام: کیف احمد صدیقی · محفل: تنہائیوں کو سونپ کے تاریکیوں کا زہر کیف احمد صدیقی · 2026-01-12
«دریا کی موج ہی میں نہیں اضطراب ہے» کیف احمد صدیقی کا کلام ہے، جسے یادرفتگان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «تنہائیوں کو سونپ کے تاریکیوں کا زہر کیف احمد صدیقی» میں 12 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 42 سیکنڈ ہے۔
دریا کی موج ہی میں نہیں اضطراب ہےسنگ رواں کے دل میں بھی اک زخم آب ہے
ہر فرد آج ٹوٹتے لمحوں کے شور میںعصر رواں کی جاگتی آنکھوں کا خواب ہے