6 اشعار

دریا کی موج ہی میں نہیں اضطراب ہے

Darya ki mauj hi mein nahin iztiraab hai

دریا کی موج ہی میں نہیں اضطراب ہے

«دریا کی موج ہی میں نہیں اضطراب ہے» کیف احمد صدیقی کا کلام ہے، جسے یادرفتگان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «تنہائیوں کو سونپ کے تاریکیوں کا زہر کیف احمد صدیقی» میں 12 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 42 سیکنڈ ہے۔

دریا کی موج ہی میں نہیں اضطراب ہےسنگ رواں کے دل میں بھی اک زخم آب ہے

ہر فرد آج ٹوٹتے لمحوں کے شور میںعصر رواں کی جاگتی آنکھوں کا خواب ہے

وہ خود ہی اپنی آگ میں جل کر فنا ہواجس سائے کی تلاش میں یہ آفتاب ہے

اب کوئی نصف دام پہ بھی پوچھتا نہیںیہ زندگی نصاب سے خارج کتاب ہے

پلکوں پہ آج نیند کی کرچیں بکھر گئیںشیشے کی آنکھ میں کوئی پتھر کا خواب ہے

اے کیفؔ نا قدوں کے تعصب کے باوجودمیرا ہر ایک شعر ادب کی کتاب ہے

— کیف احمد صدیقی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں