دریا کی موج ہی میں نہیں اضطراب ہے
کلام: کیف احمد صدیقی
دریا کی موج ہی میں نہیں اضطراب ہےسنگ رواں کے دل میں بھی اک زخم آب ہے
ہر فرد آج ٹوٹتے لمحوں کے شور میںعصر رواں کی جاگتی آنکھوں کا خواب ہے
تنہائیوں کو سونپ کے تاریکیوں کا زہر کیف احمد صدیقی
مہمان شاعر: کیف احمد صدیقی
دریا کی موج ہی میں نہیں اضطراب ہےسنگ رواں کے دل میں بھی اک زخم آب ہے
ہر فرد آج ٹوٹتے لمحوں کے شور میںعصر رواں کی جاگتی آنکھوں کا خواب ہے
آج پھر شاخ سے گرے پتےاور مٹی میں مل گئے پتے
جانے کس دشت کی تلاش میں ہیںریگزاروں میں چیختے پتے