مقرر

یادرفتگان

@Yaad_e_Raftgaan

53
پیش کردہ کلام
56
محفلوں میں شرکت
یادرفتگان کی آواز میں

حال اس کا ترے چہرہ پہ لکھا لگتا ہے

کلام: شہزاد احمد · محفل: رخصت ہوا تو آنکھ ملا کر نہیں گیا شہزاد احمد · 2026-01-11

«حال اس کا ترے چہرہ پہ لکھا لگتا ہے» شہزاد احمد کا کلام ہے، جسے یادرفتگان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «رخصت ہوا تو آنکھ ملا کر نہیں گیا شہزاد احمد» میں 11 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 40 سیکنڈ ہے۔

حال اس کا ترے چہرہ پہ لکھا لگتا ہےوہ جو چپ چاپ کھڑا ہے ترا کیا لگتا ہے

یوں تری یاد میں دن رات مگن رہتا ہوںدل دھڑکنا ترے قدموں کی صدا لگتا ہے

مکمل کلام پڑھیں ‹

مزید پیش کردہ کلام

سب دیکھیں
  1. 01 یہ سانحہ بھی ہوا ہے تری خدائی میں Ye saanha bhi hua hai teri Khudai mein راکب مختار آواز میں دستیاب
  2. 02 نئے غمزے نئے انداز نظر آتے ہیں Naye ghamze naye andaaz nazar aate hain پروین ام مشتاق آواز میں دستیاب
  3. 03 عرض الم بہ طرز تماشا بھی چاہیے Arz-e-alam ba tarz-e-tamasha bhi chahiye جواد شیخ آواز میں دستیاب
  4. 04 تو کیا یہ آخری خواہش ہے اچھا بھول جاؤں To kya yeh aakhri khwahish hai achha bhool jaaun جواد شیخ آواز میں دستیاب
  5. 05 کام آ سکیں نہ اپنی وفائیں تو کیا کریں Kaam aa sakein na apni wafayein to kya karein اختر شیرانی آواز میں دستیاب
  6. 06 دل و دماغ کو رو لوں گا آہ کر لوں گا Dil-o-Dimagh Ko Ro Loon Ga Aah Kar Loon Ga اختر شیرانی آواز میں دستیاب
  7. 07 نگاہوں کے تقاضے چین سے مرنے نہیں دیتے Nigahon ke taqazay chain se marne nahin dete وسیم بریلوی آواز میں دستیاب
  8. 08 نہیں کہ اپنا زمانہ بھی تو نہیں آیا Nahin ke apna zamana bhi to nahin aaya وسیم بریلوی آواز میں دستیاب