حال اس کا ترے چہرہ پہ لکھا لگتا ہے
کلام: شہزاد احمد
حال اس کا ترے چہرہ پہ لکھا لگتا ہےوہ جو چپ چاپ کھڑا ہے ترا کیا لگتا ہے
یوں تری یاد میں دن رات مگن رہتا ہوںدل دھڑکنا ترے قدموں کی صدا لگتا ہے
رخصت ہوا تو آنکھ ملا کر نہیں گیا شہزاد احمد
مہمان شاعر: شہزاد احمد
حال اس کا ترے چہرہ پہ لکھا لگتا ہےوہ جو چپ چاپ کھڑا ہے ترا کیا لگتا ہے
یوں تری یاد میں دن رات مگن رہتا ہوںدل دھڑکنا ترے قدموں کی صدا لگتا ہے
یوں خاک کی مانند نہ راہوں پہ بکھر جاکرنوں کی طرح جھیل کے سینے میں اتر جا
مت بھول کہ اب بھی ہے تری گھات میں صیادسنتا ہے کوئی پاؤں کی آواز ٹھہر جا