5 اشعار

حال اس کا ترے چہرہ پہ لکھا لگتا ہے

Haal us ka tere chehra pe likha lagta hai

حال اس کا ترے چہرہ پہ لکھا لگتا ہے

«حال اس کا ترے چہرہ پہ لکھا لگتا ہے» شہزاد احمد کا کلام ہے، جسے یادرفتگان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «رخصت ہوا تو آنکھ ملا کر نہیں گیا شہزاد احمد» میں 11 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 40 سیکنڈ ہے۔

حال اس کا ترے چہرہ پہ لکھا لگتا ہےوہ جو چپ چاپ کھڑا ہے ترا کیا لگتا ہے

یوں تری یاد میں دن رات مگن رہتا ہوںدل دھڑکنا ترے قدموں کی صدا لگتا ہے

یوں تو ہر چیز سلامت ہے مری دنیا میںاک تعلق ہے کہ جو ٹوٹا ہوا لگتا ہے

اے مرے جذب دروں مجھ میں کشش ہے اتنیجو خطا ہوتا ہے وہ تیر بھی آ لگتا ہے

جانے میں کون سی پستی میں گرا ہوں شہزادؔاس قدر دور ہے سورج کہ دیا لگتا ہے

— شہزاد احمد

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں