یادرفتگان کی آواز میں
جب خزاں آئے تو پتے نہ ثمر بچتا ہے
کلام: رحمان فارس · محفل: یہ کیسی کسک سی باقی ہےپاوں میں وہ کانٹابھی نہیں فہمیدہ ریاض · 2025-12-15
«جب خزاں آئے تو پتے نہ ثمر بچتا ہے» رحمان فارس کا کلام ہے، جسے یادرفتگان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «یہ کیسی کسک سی باقی ہےپاوں میں وہ کانٹابھی نہیں فہمیدہ ریاض» میں 15 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 7 سیکنڈ ہے۔
جب خزاں آئے تو پتے نہ ثمر بچتا ہےخالی جھولی لئے ویران شجر بچتا ہے
نکتہ چیں شوق سے دن رات مرے عیب نکالکیونکہ جب عیب نکل جائیں ہنر بچتا ہے