جب خزاں آئے تو پتے نہ ثمر بچتا ہے
کلام: رحمان فارس
جب خزاں آئے تو پتے نہ ثمر بچتا ہےخالی جھولی لئے ویران شجر بچتا ہے
نکتہ چیں شوق سے دن رات مرے عیب نکالکیونکہ جب عیب نکل جائیں ہنر بچتا ہے
یہ کیسی کسک سی باقی ہےپاوں میں وہ کانٹابھی نہیں فہمیدہ ریاض
مہمان شاعر: فہمیدہ ریاض
جب خزاں آئے تو پتے نہ ثمر بچتا ہےخالی جھولی لئے ویران شجر بچتا ہے
نکتہ چیں شوق سے دن رات مرے عیب نکالکیونکہ جب عیب نکل جائیں ہنر بچتا ہے