یادرفتگان کی آواز میں
موت سے درد محبت کی دوا مانگی ہے
کلام: ساحر بھوپالی · محفل: وفا تو کیسی جفا بھی نہیں ہے اب ہم پر ساحر بھوپالی · 2026-01-26
«موت سے درد محبت کی دوا مانگی ہے» ساحر بھوپالی کا کلام ہے، جسے یادرفتگان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «وفا تو کیسی جفا بھی نہیں ہے اب ہم پر ساحر بھوپالی» میں 26 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 42 سیکنڈ ہے۔
موت سے درد محبت کی دوا مانگی ہےمیں نے خود اپنی خطاؤں کی سزا مانگی ہے
توڑ مت بہر خدا آس دل پر غم کیمیں نے ظالم ترے ملنے کی دعا مانگی ہے