6 اشعار

موت سے درد محبت کی دوا مانگی ہے

Maut Se Dard-e-Mohabbat Ki Dawa Maangi Hai

موت سے درد محبت کی دوا مانگی ہے

«موت سے درد محبت کی دوا مانگی ہے» ساحر بھوپالی کا کلام ہے، جسے یادرفتگان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «وفا تو کیسی جفا بھی نہیں ہے اب ہم پر ساحر بھوپالی» میں 26 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 42 سیکنڈ ہے۔

موت سے درد محبت کی دوا مانگی ہےمیں نے خود اپنی خطاؤں کی سزا مانگی ہے

توڑ مت بہر خدا آس دل پر غم کیمیں نے ظالم ترے ملنے کی دعا مانگی ہے

رحمتیں اس کی تباہیٔ وفا پر جس نےمرتے مرتے ترے دامن کی ہوا مانگی ہے

میں نے کچھ اور نہیں چاہا خدائے غم سےبس ترے حسن کی ہر ایک بلا مانگی ہے

اپنے سر آپ نہ لیں دل شکنی کا الزاممیں نے خود اپنی تباہی کی دعا مانگی ہے

ہائے کیا چیز ہے ساحرؔ یہ مرا حسن طلبمیں نے ہر چیز زمانے سے جدا مانگی ہے

— ساحر بھوپالی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں