موت سے درد محبت کی دوا مانگی ہے
کلام: ساحر بھوپالی
موت سے درد محبت کی دوا مانگی ہےمیں نے خود اپنی خطاؤں کی سزا مانگی ہے
توڑ مت بہر خدا آس دل پر غم کیمیں نے ظالم ترے ملنے کی دعا مانگی ہے
وفا تو کیسی جفا بھی نہیں ہے اب ہم پر ساحر بھوپالی
مہمان شاعر: ساحر بھوپالی
موت سے درد محبت کی دوا مانگی ہےمیں نے خود اپنی خطاؤں کی سزا مانگی ہے
توڑ مت بہر خدا آس دل پر غم کیمیں نے ظالم ترے ملنے کی دعا مانگی ہے
ترے بغیر سکون و قرار کو ترسےبہار میں بھی ہم اپنی بہار کو ترسے
ملا نہ چین کسی کل انہیں بھی تڑپا کرقرار چھین کے وہ بھی قرار کو ترسے