کس مست ادا سے آنکھ لڑی متوالا بنا لہرا کے گرا
کلام: آرزو لکھنوی
کس مست ادا سے آنکھ لڑی متوالا بنا لہرا کے گراآگے تو ہیں راہیں اور کٹھن دل پہلے ہی ٹھوکر کھا کے گرا
آگے جو بڑھا تھرائے قدم وہ ہنس جو دیے شرما کے گرابے ہوش نہیں ہشیار تھا میں اٹھنے کا سہارا پا کے گرا