7 اشعار

کس مست ادا سے آنکھ لڑی متوالا بنا لہرا کے گرا

Kis mast adaa se aankh ladi, matwala bana lehra ke gira

کس مست ادا سے آنکھ لڑی متوالا بنا لہرا کے گرا

«کس مست ادا سے آنکھ لڑی متوالا بنا لہرا کے گرا» آرزو لکھنوی کا کلام ہے، جسے حسین بلوچ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «پوچھا کہ ان سے چاند نکلتا ہے کس طرح آرزو لکھنوی» میں 6 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 2 سیکنڈ ہے۔

کس مست ادا سے آنکھ لڑی متوالا بنا لہرا کے گراآگے تو ہیں راہیں اور کٹھن دل پہلے ہی ٹھوکر کھا کے گرا

آگے جو بڑھا تھرائے قدم وہ ہنس جو دیے شرما کے گرابے ہوش نہیں ہشیار تھا میں اٹھنے کا سہارا پا کے گرا

دل شوق کے جوش میں دوڑ چلا اور جوش تو ہوتا ہے اندھادر بند پڑا تھا قسمت کا ٹکر جو لگی تیورا کے گرا

جتنی بھی دل کی ضرورت تھی بس اتنی ہی ہمت و طاقت تھیرستے کی کھکھیڑیں جھیل گیا پاس آتے ہی میں چکرا کے گرا

کیا عشق کی منزل بھی ہے کڑی بندھ بندھ کر ہمت ٹوٹ گئیجو ایک قدم چل کر سنبھلا وہ دو قدم آگے جا کے گرا

سلگی ہوئی ہے غم کی بھٹی دل کیوں نہ پگھل کے بنے پانیجو قطرہ آنسو ہو کے بہا لہرا کے چلا تیورا کے گرا

وہ نالہ فلک سے ٹکرایا وہ آرزوؔ اک تارا ٹوٹادشمن کی طرف جو لپکا تھا شعلہ وہ مجھی پر آ کے گرا

— آرزو لکھنوی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں