زاہدحسین کی آواز میں
زندہ رہیں تو کیا ہے جو مر جائیں ہم تو کیا
کلام: منیرنیازی · محفل: کچھ تو ہوا بھی سرد کچھ تھی کچھ تو تھا تیراخیال بھی (پروین شاکر) · 2025-12-26
«زندہ رہیں تو کیا ہے جو مر جائیں ہم تو کیا» منیرنیازی کا کلام ہے، جسے زاہدحسین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کچھ تو ہوا بھی سرد کچھ تھی کچھ تو تھا تیراخیال بھی (پروین شاکر)» میں 26 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 30 سیکنڈ ہے۔
زندہ رہیں تو کیا ہے جو مر جائیں ہم تو کیادنیا سے خامشی سے گزر جائیں ہم تو کیا
ہستی ہی اپنی کیا ہے زمانے کے سامنےاک خواب ہیں جہاں میں بکھر جائیں ہم تو کیا