4 اشعار

زندہ رہیں تو کیا ہے جو مر جائیں ہم تو کیا

Zinda rahen to kya hai jo mar jayen hum to kya

زندہ رہیں تو کیا ہے جو مر جائیں ہم تو کیا

«زندہ رہیں تو کیا ہے جو مر جائیں ہم تو کیا» منیرنیازی کا کلام ہے، جسے زاہدحسین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کچھ تو ہوا بھی سرد کچھ تھی کچھ تو تھا تیراخیال بھی (پروین شاکر)» میں 26 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 30 سیکنڈ ہے۔

زندہ رہیں تو کیا ہے جو مر جائیں ہم تو کیادنیا سے خامشی سے گزر جائیں ہم تو کیا

ہستی ہی اپنی کیا ہے زمانے کے سامنےاک خواب ہیں جہاں میں بکھر جائیں ہم تو کیا

اب کون منتظر ہے ہمارے لیے وہاںشام آ گئی ہے لوٹ کے گھر جائیں ہم تو کیا

دل کی خلش تو ساتھ رہے گی تمام عمردریائے غم کے پار اتر جائیں ہم تو کیا

— منیرنیازی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں