دعا کا ٹوٹا ہوا حرف سرد آہ میں ہے
دعا کا ٹوٹا ہوا حرف سرد آہ میں ہےتری جدائی کا منظر ابھی نگاہ میں ہے
ترے بدلنے کے با وصف تجھ کو چاہا ہےیہ اعتراف بھی شامل مرے گناہ میں ہے
کچھ تو ہوا بھی سرد کچھ تھی کچھ تو تھا تیراخیال بھی (پروین شاکر)
مہمان شاعر: پروین شاکر
دعا کا ٹوٹا ہوا حرف سرد آہ میں ہےتری جدائی کا منظر ابھی نگاہ میں ہے
ترے بدلنے کے با وصف تجھ کو چاہا ہےیہ اعتراف بھی شامل مرے گناہ میں ہے
تراش کر مرے بازو اڑان چھوڑ گیاہوا کے پاس برہنہ کمان چھوڑ گیا
رفاقتوں کا مری اس کو دھیان کتنا تھازمین لے لی مگر آسمان چھوڑ گیا
زندہ رہیں تو کیا ہے جو مر جائیں ہم تو کیادنیا سے خامشی سے گزر جائیں ہم تو کیا
ہستی ہی اپنی کیا ہے زمانے کے سامنےاک خواب ہیں جہاں میں بکھر جائیں ہم تو کیا
اس کا نقشہ ایک بے ترتیب افسانے کا تھایہ تماشا تھا یا کوئی خواب دیوانے کا تھا
سارے کرداروں میں بے رشتہ تعلق تھا کوئیان کی بے ہوشی میں غم سا ہوش آ جانے کا تھا