11 اشعار

اس کی یادوں کو سنبھالا ہے،

Us ki yaadon ko sambhala hai,

اس کی یادوں کو سنبھالا ہے،متاعِ حیات سمجھ کر

اس کے بغیر جینا سیکھا ہے،عبادات سمجھ کر

تو نہ سہی، تری دلنشیں یاد ہی سہی,سینے سے لگا رکھا ہے،

اُسے کائنات سمجھ کراے متاعِ زیست، کچھ تو کرم کر,

اس عید پہ آ بھی جا,روایات سمجھ کر

ایک کونے میں بیٹھا ہوں,کاسۂ حیات لیے

کچھ تو عنایت کر دے,خیرات سمجھ کر

اے نگارِ زیست, تری یاد بسائی ہے دل میں,کبھی تو جھانک کے دیکھ,

احساسات سمجھ کراسے دل میں بسایا تھا,

متاعِ دل سمجھ کرمگر اس نے رکھا ھےا تعلق,

گزر اوقات سمجھ کر

— امل خان