9 اشعار

‏اے عمر رواں زرا ٹھہر تو سہی

Aye umr-e-rawan zara thehar to sahi

‏اے عمر رواں زرا ٹھہر تو سہی

«‏اے عمر رواں زرا ٹھہر تو سہی» امل خان کا کلام ہے، جسے یادرفتگان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اس سے کچھ خاص تعلق بھی نہیں ہے اپنا (دلاور علی آزر)» میں 28 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 15 سیکنڈ ہے۔

‏اے عمر رواں زرا ٹھہر تو سہیکچھ خواب ابھی ادھورے ہیں

کچھ باتیں ابھی ادھوری ہیںکچھ قرض ابھی چکانے ہیں

اے عمر رواں انہیں ڈھونڈ کے لاوہ لوگ جو ہم سے بچھڑ گئے

وہ سنگی ،ساتھی،بیلی ہمدمزرا دیکھ کر آ کدھر گئے

جو ہمدم تھے جو پریتم تھےدل کو جن کے روگ لگے

جن کے بنا جیون سوگ لگےاے عمر رواں زرا رک تو سہی

ٹھہر ذرا دھیرے چلزرا من کی پیاس بجھانے دے

کچھ خواب پورے ہو جانے دےکچھ پیار کے گیت سنانے دے

بچھڑے ساجن کو آ جانے دےاے عمر رواں زرا ٹھر تو سہی

— امل خان

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں