8 اشعار

کس لیے چپ ہوں وضاحت بھی نہیں کر سکتا

Kis liye chup hoon wazahat bhi nahi kar sakta

کس لیے چپ ہوں وضاحت بھی نہیں کر سکتا

«کس لیے چپ ہوں وضاحت بھی نہیں کر سکتا» اشرف یوسفی کا کلام ہے، جسے عبدالقدیر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «تیرا نام لکھتی ہیں انگلیاں خلاؤں میں عشرت آفریں» میں 30 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 7 سیکنڈ ہے۔

کس لیے چپ ہوں وضاحت بھی نہیں کر سکتامیں محبت میں شکایت بھی نہیں کر سکتا

ایک اک کر کے پرندوں نے تو ہجرت کر لیپیڑ ہوں پیڑ تو ہجرت بھی نہیں کر سکتا

کیا مجھے سانس بھی لینے کی اجازت نہیں ہےکیا میں اک اور محبت بھی نہیں کر سکتا

کیا زمانہ ہے کہ اس عہد زیاں میں کوئی شخصاپنے بچوں کو نصیحت بھی نہیں کر سکتا

کون سا خوف رگ و پے میں سمایا ہے کہ ابمیں برائی کی مذمت بھی نہیں کر سکتا

اب کسی اشک کو کیا آنکھ میں رکھا جائےاشک جو غم کی حفاظت بھی نہیں کر سکتا

سامنا ہو تو زباں دل کا نہیں دیتی ساتھکچھ بتانے کی میں ہمت بھی نہیں کر سکتا

سانحہ یہ ہے اسے مجھ سے جدا ہونا ہےاور ستم یہ کہ میں رخصت بھی نہیں کر سکتا

— اشرف یوسفی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں