آنر کلنگ
کلام: عشرت آفریں
عورت مرد کی کھیتی ٹھہریمرد کو حق ہے اس کھیتی کو
جوتے بوئےفصل اگائے
تیرا نام لکھتی ہیں انگلیاں خلاؤں میں عشرت آفریں
مہمان شاعر: عشرت آفریں
عورت مرد کی کھیتی ٹھہریمرد کو حق ہے اس کھیتی کو
جوتے بوئےفصل اگائے
اسیر لوگواٹھو اور اٹھ کر پہاڑ کاٹو
پہاڑ مردہ روایتوں کےپہاڑ اندھی عقیدتوں کے
کس لیے چپ ہوں وضاحت بھی نہیں کر سکتامیں محبت میں شکایت بھی نہیں کر سکتا
ایک اک کر کے پرندوں نے تو ہجرت کر لیپیڑ ہوں پیڑ تو ہجرت بھی نہیں کر سکتا