6 اشعار

غم چھپاؤ کہ سبھی آتے ہیں

Gham chhupao ke sabhi aate hain

غم چھپاؤ کہ سبھی آتے ہیں

«غم چھپاؤ کہ سبھی آتے ہیں» عذرا یاسمین کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 40 سیکنڈ ہے۔

غم چھپاؤ کہ سبھی آتے ہیںمُسکراؤ کہ سبھی آتے ہیں

رہو محرومِ تمنا تم کیوں ؟اب تو آؤ کہ سبھی آتے ہیں

اب تو محفل کا تقاضا ہے یہییوں نہ جاؤ کہ سبھی آتے ہیں

وقت کی دُھن پہ سبھی رقصاں ہیںخاک اُڑاؤ کہ سبھی آتے ہیں

یک و تنہا بھی ہو گر محفل میںیوں جتاؤ کہ سبھی آتے ہیں

باغ مہکے گلوں کے موسم میںدر سجاؤ کہ سبھی آتے ہیں

— عذرا یاسمین