14 اشعار

اچھی صورت پہ غضب ٹوٹ کے آنا دل کا

Achhi surat pe ghazab toot ke aana dil ka

اچھی صورت پہ غضب ٹوٹ کے آنا دل کا

«اچھی صورت پہ غضب ٹوٹ کے آنا دل کا» داغ دہلوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 58 سیکنڈ ہے۔

اچھی صورت پہ غضب ٹوٹ کے آنا دل کایاد آتا ہے ہمیں ہائے زمانا دل کا

تم بھی منہ چوم لو بے ساختہ پیار آ جائےمیں سناؤں جو کبھی دل سے فسانا دل کا

نگۂ یار نے کی خانہ خرابی ایسینہ ٹھکانا ہے جگر کا نہ ٹھکانا دل کا

پوری مہندی بھی لگانی نہیں آتی اب تککیوں کر آیا تجھے غیروں سے لگانا دل کا

غنچۂ گل کو وہ مٹھی میں لیے آتے تھےمیں نے پوچھا تو کیا مجھ سے بہانا دل کا

ان حسینوں کا لڑکپن ہی رہے یا اللہہوش آتا ہے تو آتا ہے ستانا دل کا

دے خدا اور جگہ سینہ و پہلو کے سواکہ برے وقت میں ہو جائے ٹھکانا دل کا

میری آغوش سے کیا ہی وہ تڑپ کر نکلےان کا جانا تھا الٰہی کہ یہ جانا دل کا

نگہ شرم کو بے تاب کیا کام کیارنگ لایا تری آنکھوں میں سمانا دل کا

انگلیاں تار گریباں میں الجھ جاتی ہیںسخت دشوار ہے ہاتھوں سے دبانا دل کا

حور کی شکل ہو تم نور کے پتلے ہو تماور اس پر تمہیں آتا ہے جلانا دل کا

چھوڑ کر اس کو تری بزم سے کیوں کر جاؤںاک جنازے کا اٹھانا ہے اٹھانا دل کا

بے دلی کا جو کہا حال تو فرماتے ہیںکر لیا تو نے کہیں اور ٹھکانا دل کا

بعد مدت کے یہ اے داغؔ سمجھ میں آیاوہی دانا ہے کہا جس نے نہ مانا دل کا

— داغ دہلوی