7 اشعار

کہتے ہیں جس کو حور وہ انساں تمہیں تو ہو

Kahte hain jis ko hoor woh insan tumhin to ho

کہتے ہیں جس کو حور وہ انساں تمہیں تو ہو

«کہتے ہیں جس کو حور وہ انساں تمہیں تو ہو» داغ دہلوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 58 سیکنڈ ہے۔

کہتے ہیں جس کو حور وہ انساں تمہیں تو ہوجاتی ہے جس پہ جان مری جاں تمہیں تو ہو

مطلب کی کہہ رہے ہیں وہ دانا ہمیں تو ہیںمطلب کی پوچھتے ہو وہ ناداں تمہیں تو ہو

آتا ہے بعد ظلم تمہیں کو تو رحم بھیاپنے کیے سے دل میں پشیماں تمہیں تو ہو

پچھتاؤ گے بہت مرے دل کو اجاڑ کراس گھر میں اور کون ہے مہماں تمہیں تو ہو

اک روز رنگ لائیں گی یہ مہربانیاںہم جانتے تھے جان کے خواہاں تمہیں تو ہو

دل دار و دل فریب دل آزار و دل ستاںلاکھوں میں ہم کہیں گے کہ ہاں ہاں تمہیں تو ہو

کرتے ہو داغؔ دور سے بت خانے کو سلاماپنی طرح کے ایک مسلماں تمہیں تو ہو

— داغ دہلوی