5 اشعار

لطف وہ عشق میں پائے ہیں کہ جی جانتا ہے

Lutf woh ishq mein paaye hain ke ji jaanta hai

لطف وہ عشق میں پائے ہیں کہ جی جانتا ہے

«لطف وہ عشق میں پائے ہیں کہ جی جانتا ہے» داغ دہلوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 49 سیکنڈ ہے۔

لطف وہ عشق میں پائے ہیں کہ جی جانتا ہےرنج بھی ایسے اٹھائے ہیں کہ جی جانتا ہے

جو زمانے کے ستم ہیں وہ زمانہ جانےتو نے دل اتنے ستائے ہیں کہ جی جانتا ہے

تم نہیں جانتے اب تک یہ تمہارے اندازوہ مرے دل میں سمائے ہیں کہ جی جانتا ہے

انہیں قدموں نے تمہارے انہیں قدموں کی قسمخاک میں اتنے ملائے ہیں کہ جی جانتا ہے

دوستی میں تری در پردہ ہمارے دشمناس قدر اپنے پرائے ہیں کہ جی جانتا ہے

— داغ دہلوی