10 اشعار

مزے عشق کے کچھ وہی جانتے ہیں

Maze ishq ke kuch wohi jaante hain

مزے عشق کے کچھ وہی جانتے ہیں

«مزے عشق کے کچھ وہی جانتے ہیں» داغ دہلوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 1 سیکنڈ ہے۔

مزے عشق کے کچھ وہی جانتے ہیںکہ جو موت کو زندگی جانتے ہیں

شب وصل لیں ان کی اتنی بلائیںکہ ہمدم مرے ہاتھ ہی جانتے ہیں

نہ ہو دل تو کیا لطف آزار و راحتبرابر خوشی ناخوشی جانتے ہیں

جو ہے میرے دل میں انہیں کو خبر ہےجو میں جانتا ہوں وہی جانتے ہیں

پڑا ہوں سر بزم میں دم چرائےمگر وہ اسے بے خودی جانتے ہیں

کہاں قدر ہم جنس ہم جنس کو ہےفرشتوں کو بھی آدمی جانتے ہیں

کہوں حال دل تو کہیں اس سے حاصلسبھی کو خبر ہے سبھی جانتے ہیں

وہ نادان انجان بھولے ہیں ایسےکہ سب شیوۂ دشمنی جانتے ہیں

نہیں جانتے اس کا انجام کیا ہےوہ مرنا میرا دل لگی جانتے ہیں

سمجھتا ہے تو داغؔ کو رند زاہدمگر رند اس کو ولی جانتے ہیں

— داغ دہلوی