8 اشعار

گزر اس حجرۂ گردوں سے ہو کیدھر اپنا

Guzar is hujra-e-gardun se ho kidhar apna

گزر اس حجرۂ گردوں سے ہو کیدھر اپناقید خانہ ہے عجب گنبد بے در اپنا

شکل رہنے کی ہے بستی میں یہ اس بن اپنیجیسے جنگل میں بناتا ہے کوئی گھر اپنا

شب کی بے تابیاں کیا کہیے کہ دیکھا جو سحرٹکڑے ٹکڑے نظر آیا ہمیں بستر اپنا

ہم نشیں اس کو جو لانا ہے تو لا جلد کہ ہمتھامے بیٹھے رہیں کب تک دل مضطر اپنا

وہ گئے دن کہ سدا مے کدۂ ہستی میںبادۂ عیش سے لبریز تھا ساغر اپنا

تاب نظارہ تری لائے نہ خورشید ذراہاتھ جب تک کہ نہ رکھ لے وہ جبیں پر اپنا

دیں گے سر عشق کے سودے میں اگرچہ ہم کواس میں نقصاں نظر آتا ہے سراسر اپنا

ہے زمیں خوب غزل در غزل اس کو کہیےبس کہ معمول ہے جرأتؔ یہی اکثر اپنا

— جرات قلندر بخش