5 اشعار

سب کہتے ہیں دیکھ اس کو سر راہ زمیں پر

Sab kehte hain dekh us ko sar-e-rah zameen par

سب کہتے ہیں دیکھ اس کو سر راہ زمیں پر''کس راہ سے آیا یہ اتر ماہ زمیں پر''

بیمار کی تیرے تو کہانی ہے بڑی پرقصہ ہے اب اک دم میں ہی کوتاہ زمیں پر

تو چھت پہ چڑھا اس کے ہے ایسا کہ بس آخرچھوڑے گی اتروا کے تری چاہ زمیں پر

یہ وہ دل مضطر ہے کہ جوں برق تپیدہگاہے بہ فلک آئے نظر گاہ زمیں پر

کچھ سوچ کے بس کانپنے لگتا ہوں میں جرأتؔپڑتا ہے قدم زور سے جب آہ زمیں پر

— جرات قلندر بخش