تعارف
نوجوان شاعر سعید شارق کا اصل نام محمد اجمل سعید ہے۔ وہ 03 جون 1993ء کو اسلام آباد میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے بی ایس انجینئرنگ ٹیکنالوجی ( مکینیکل) میں ڈگری حاصل کرنے کے بعد انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی سے اردو ادب میں ماسٹر ڈگری حاصل کی۔ مزید برآں اعلی تعلیم کے حصول کے لیے اِن دنوں نمل یونی ورسٹی اسلام آباد میں ایم فل اردو کے طالب علم ہیں۔ سعید شارق نے سترہ برس کی عمر میں شاعری کا آغاز کیا۔ 2017 ء میں ان کا پہلا شعری مجموعہ " سایہ " کے نام سے شائع ہوا۔جسے ادبی حلقوں میں بھرپور پذیرائی ملی۔ اس شعری مجموعے پر انھیں بابا گرو نانک ایوارڈ اور عکسِ خوشبو پروین شاکر ایوارڈ سے نوازا گیا۔ ادبی و ثقافتی تنظیم ہراول کی جانب سے جون 2020ء میں بہترین غزل گو شاعر کے اعزاز سے نوازا گیا۔ انکے دوسرے شعری مجموعے کوہِ ملال کو آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کی جانب سے 2024ء کا بہترین شعری مجموعہ قرار دیتے ہوئے ایوارڈ سے نوازا گیا ہے
منتخب اشعار
اکیلے سالگرہ مَیں نے کب منائی تھی!
اُداسی بتّیاں، تنہائی کیک لائی تھی
اُس بَس میں ہوں جِس کی کوئی کھِڑکی نہیں کُھلتی
رَش اتنا زِیادہ ہے، سَڑک ہی نہیں کُھلتی!
کلام
- 01 اکیلے سالگرہ مَیں نے کب منائی تھی! Akele saalgirah main ne kab manayi thi! آواز میں دستیاب
- 02 اُس بَس میں ہوں جِس کی کوئی کھِڑکی نہیں کُھلتی Us bus mein hoon jis ki koi khidki nahin khulti آواز میں دستیاب
- 03 پُر نہیں ہے مِری جگہ مجھ سے Pur nahin hai meri jagah mujh se آواز میں دستیاب
- 04 کھڑے ہی رہ گئے، مَیں اور انتظار مِرا Khade hi reh gaye, main aur intizaar mera آواز میں دستیاب
- 05 صُبح کا سیل تھما، شام کی ندّی اُتری Subh ka sail thama, shaam ki naddi utri آواز میں دستیاب
- 06 ابھی نِگاہ پڑی بھی نہ تھی خزانے پر Abhi nigah padi bhi na thi khazane par آواز میں دستیاب