12 اشعار

تیغ بران نکالو صاحب

Tegh-e-burraan nikalo sahib

تیغ بران نکالو صاحبدل کے ارمان نکالو صاحب

گھر سے رکھتے ہو قدم کیوں باہرنہ مری جان نکالو صاحب

دیکھ رہنے سے خفا ہو تو مریچشم حیران نکالو صاحب

ہے یہ ناصور جگر کی بتیتم نہ پیکان نکالو صاحب

رہنے دو گھر میں نہ مجھ پر ناحقرکھ کے بہتان نکالو صاحب

بار اغیار کو خلوت میں نہ دوہیں بد انسان، نکالو صاحب

ہے مری طرح تمہارا کہیں دھیاندل سے یہ دھیان نکالو صاحب

گالی ناحق نہ کسی کے حق میںمنہ سے ہر آن نکالو صاحب

ہائے یہ رنجش بے جا دل سےکسی عنوان نکالو صاحب

سر بازار نہ بیٹھا کرو تمکچھ تو اب شان نکالو صاحب

گرم بازاری کی خاطر سر راہتم نہ دوکان نکالو صاحب

حسرت وصل ہے جرأتؔ کو کماللو یہ ارمان نکالو صاحب

— جرات قلندر بخش