14 اشعار

نالۂ موزوں سے مصرع آہ کا چسپاں ہوا

Naala-e-mauzun se misra-e-aah ka chaspaan hua

نالۂ موزوں سے مصرع آہ کا چسپاں ہوازور یہ پر درد اپنا مطلع دیواں ہوا

جس نے دیکھا آ کے یہ آئینہ خانہ دہر کافی الحقیقت بس وہ اپنا آپ ہی حیراں ہوا

سب پہ ظاہر ہو گئی بیتابیٔ دل شکل برقوہ بھبھوکا اپنی نظروں سے جو ٹک پنہاں ہوا

اس کے جانے سے یہ دل میں آئے ہے رہ رہ کے ہائےسب جہاں بستا ہے اک اپنا ہی گھر ویراں ہوا

کاش دل سے چشم تک آنے نہ پاتا طفل اشکرفتہ رفتہ اب تو یہ لڑکا کوئی طوفاں ہوا

گر ہوئے وا اس کے لب تو دیکھیے کیا گل کھلےہو خفا جب بے طرح وہ رونق بستاں ہوا

آئے جو مرقد پہ میرے سو مکدر ہو گئےخاک ہو کر بھی غبار خاطر یاراں ہوا

روز و شب رہنے لگے اس گھر میں یہ کافر صنمکعبۂ دل صاف اپنا اب تو کفرستاں ہوا

جوش وحشت دیکھیو کوئی کہ ہر اک خار کےدھجیاں ہو کر گلے کا ہار یہ داماں ہوا

اشک رنگیں نے جو اپنے کر دیا یاں فرش گلرشک صد گلشن ہمیں یہ گوشۂ زنداں ہوا

بندھ گیا تیرا تصور جس کی آنکھوں کے حضوراس کو بس عالم وصال و ہجر کا یکساں ہوا

یک بہ یک تو نے یہ کیسا رنگ بدلا اے فلکتیری گردش سے کہیں کیا سخت جی ہلکاں ہوا

کل تلک جو گھر گھر اپنا تھا سو اس کے در پہ آجنیلا پیلا دیکھ کر کیا کیا ہمیں درباں ہوا

گرچہ ہر قالب میں جرأتؔ صورتیں ڈھلتی رہیںپر بنا جو درد کا پتلا وہ ہی انساں ہوا

— جرات قلندر بخش