6 اشعار

آیا ہے ایک شخص عجب آن بان کا

Āyā hai ek shakhs ajab aan bān ka

آیا ہے ایک شخص عجب آن بان کانقشہ بدل گیا ہے پرانے مکان کا

تارے سے ٹوٹتے ہیں ابھی تک ادھر ادھرباقی ہے کچھ نشہ ابھی کل کی اڑان کا

کالک سی جم رہی ہے چمکتی زمین پرسورج سے جل اٹھا ہے ورق آسمان کا

دریا میں دور دور تلک کشتیاں نہ تھیںخطرہ نہ تھا ہوا کو کسی بادبان کا

دونوں کے دل میں خوف تھا میدان جنگ میںدونوں کا خوف فاصلہ تھا درمیان کا

علویؔ کواڑ کھول کے دیکھا تو کچھ نہ تھاوہ تو قصور تھا مرے وہم و گمان کا

— محمد علوی