6 اشعار

ہر اک جھونکا نکیلا ہو گیا ہے

Har ik jhoñkā nukīlā ho gayā hai

ہر اک جھونکا نکیلا ہو گیا ہےفضا کا رنگ نیلا ہو گیا ہے

ابھی دو چار ہی بوندیں گریں ہیںمگر موسم نشیلا ہو گیا ہے

کریں کیا دل اسی کو مانگتا ہےیہ سالا بھی ہٹیلا ہو گیا ہے

خبر کیا تھی کہ نیکی بانجھ ہوگیبدی کا تو قبیلہ ہو گیا ہے

خدا رکھے جوانی آ گئی ہےگنہ بانکا سجیلا ہو گیا ہے

نہ جانے چھت پہ کیا دیکھا تھا علویؔبچارا چاند پیلا ہو ہے

— محمد علوی