6 اشعار

جاتی ہوئی لڑکی کو صدا دینا چاہیئے

Jātī huī laḍki ko sadā denā chāhiye

جاتی ہوئی لڑکی کو صدا دینا چاہیئےگھر ہو تو برا کیا ہے پتہ دینا چاہیئے

ہونٹوں کے گلابوں کو چرا لینے سے پہلےبالوں میں کوئی پھول کھلا دینا چاہیئے

ڈر ہے کہیں کمرے میں نہ گھس آئے یہ منظرکھڑکی کو کہیں اور ہٹا دینا چاہیئے

پر تول کے بیٹھی ہے مگر اڑتی نہیں ہےتصویر سے چڑیا کو اڑا دینا چاہیئے

صدیوں سے کنارے پہ کھڑا سوکھ رہا ہےاس شہر کو دریا میں گرا دینا چاہیئے

مرنے میں مزا ہے مگر اتنا تو نہیں ہےعلویؔ تمہیں قاتل کو دعا دینا چاہئے

— محمد علوی