7 اشعار

آگ پانی سے ڈرتا ہوا میں ہی تھا

Aag paani se darta hua main hi tha

آگ پانی سے ڈرتا ہوا میں ہی تھاچاند کی سیر کرتا ہوا میں ہی تھا

سر اٹھائے کھڑا تھا پہاڑوں پہ میںپتی پتی بکھرتا ہوا میں ہی تھا

میں ہی تھا اس طرف زخم کھایا ہوااس طرف وار کرتا ہوا میں ہی تھا

جاگ اٹھا تھا صبح موت کی نیند سےرات آئی تو مرتا ہوا میں ہی تھا

میں ہی تھا منزلوں پہ پڑا ہانپتاراستوں میں ٹھہرتا ہوا میں ہی تھا

مجھ سے پوچھے کوئی ڈوبنے کا مزاپانیوں میں اترتا ہوا میں ہی تھا

میں ہی تھا علویؔ کمرے میں سویا ہوااور گلی سے گزرتا ہوا میں ہی تھا

— محمد علوی