8 اشعار

کبھی تو ایسا بھی ہو راہ بھول جاؤں میں

Kabhi toh aisa bhi ho raah bhool jaaun main

کبھی تو ایسا بھی ہو راہ بھول جاؤں میںنکل کے گھر سے نہ پھر اپنے گھر میں آؤں میں

بکھیر دے مجھے چاروں طرف خلاؤں میںکچھ اس طرح سے الگ کر کہ جڑ نہ پاؤں میں

یہ جو اکیلے میں پرچھائیاں سی بنتی ہیںبکھر ہی جائیں گی لیکن کسے دکھاؤں میں

مرا مکان اگر بیچ میں نہ آئے توان اونچے اونچے مکانوں کو پھاند جاؤں میں

گواہی دیتا وہی میری بے گناہی کیوہ مر گیا تو اسے اب کہاں سے لاؤں میں

یہ زندگی تو کہیں ختم ہی نہیں ہوتیاب اور کتنے دنوں یہ عذاب اٹھاؤں میں

غزل کہی ہے کوئی بھانگ تو نہیں پی ہےمشاعرے میں ترنم سے کیوں سناؤں میں

ارے وہ آپ کے دیوان کیا ہوئے علویؔبکے نہ ہوں تو کباڑی کو ساتھ لاؤں میں

— محمد علوی