9 اشعار

کچھ تو اس دل کو سزا دی جائے

Kuch toh is dil ko saza di jaaye

کچھ تو اس دل کو سزا دی جائےاس کی تصویر ہٹا دی جائے

ڈھونڈنے میں بھی مزہ آتا ہےکوئی شے رکھ کے بھلا دی جائے

نام لکھ لکھ کے ترا کاغذ پرروشنائی بھی گرا دی جائے

ناؤ کاغذ کی بنا کر اس کوبہتے پانی میں بہا دی جائے

رات کو چپکے سے اک اک گھر کیکیوں نہ زنجیر لگا دی جائے

نیند میں چونک پڑے گا کوئیآؤ اس در پہ صدا دی جائے

آخری سانس مہک جائے گیاس کے دامن کی ہوا دی جائے

سب کے سب یاد چلے آتے ہیںآج کس کس کو دعا دی جائے

علویؔ ہوٹل میں ٹھہر سکتا ہےکیوں اسے گھر میں جگہ دی جائے

— محمد علوی