5 اشعار

آگے مت سوچو

Aage Mat Socho

سنتے ہو اک بار وہاں پھر ہو آؤایک بار پھر اس کی چوکھٹ پر جاؤ

دروازے پر دھیرے دھیرے دستک دوجب وہ سامنے آئے تو پرنام کرو

میں کچھ بھول گیا ہوں شاید اس سے کہوکیا بھولا ہوں یاد نہیں آتا کہہ دو

اس سے پوچھو ''کیا تم بتلا سکتی ہو''وہ ہنس دے تو کہہ دو جو کہنا چاہو

اور خفا ہو جائے تو آگے مت سوچو

— محمد علوی