7 اشعار

آنکھ میں دہشت نہ تھی ہاتھ میں خنجر نہ تھا

aankh mein dahshat na thi haath mein khanjar na tha

آنکھ میں دہشت نہ تھی ہاتھ میں خنجر نہ تھاسامنے دشمن تھا پر دل میں کوئی ڈر نہ تھا

اس سے بھی مل کر ہمیں مرنے کی حسرت رہیاس نے بھی جانے دیا وہ بھی ستم گر نہ تھا

اک پہاڑی پہ میں بیٹھا رہا دیر تکشوق سے دیکھا کروں ایسا بھی منظر نہ تھا

ہم سے جو آگے گئے کتنے مہربان تھےدور تلک راہ میں ایک بھی پتھر نہ تھا

رات بہت دیر سے آنکھ لگتی تھی ذرانیند میں کمرہ نہ تھا خواب میں بستر نہ تھا

شعر تو ہم نے بہت ٹھیک کیا تھا مگراب بھی غلط تھا کہیں اب بھی برابر نہ تھا

سوچا تھا اس بار تو جا کے ظفرؔ سے ملیںکیا کریں علویؔ مگر ایسا مقدر نہ تھا

— محمد علوی