6 اشعار

شریفے کے درختوں میں چھپا گھر دیکھ لیتا ہوں

sharife ke darakhton mein chhupa ghar dekh leta hun

شریفے کے درختوں میں چھپا گھر دیکھ لیتا ہوںمیں آنکھیں بند کر کے گھر کے اندر دیکھ لیتا ہوں

ادھر اس پار کیا ہے یہ کبھی سوچا نہیں میں نےمگر میں روز کھڑکی سے سمندر دیکھ لیتا ہوں

سڑک پہ چلتے پھرتے دوڑتے لوگوں سے اکتا کرکسی چھت پر مزے میں بیٹھے بندر دیکھ لیتا ہوں

یہ سچ ہے اپنی قسمت کوئی کیسے دیکھ سکتا ہےمگر میں تاش کے پتے اٹھا کر دیکھ لیتا ہوں

گلی کوچوں میں چوراہوں پہ یا بس کی قطاروں میںمیں اس چپ چاپ سی لڑکی کو اکثر دیکھ لیتا ہوں

چلا جاؤں گا جیسے خود کو تنہا چھوڑ کر علویؔمیں اپنے آپ کو راتوں میں اٹھ کر دیکھ لیتا ہوں

— محمد علوی