5 اشعار

کتنا حسین تھا تو کبھی کچھ خیال کر

kitna haseen tha tu kabhi kuch khayal kar

کتنا حسین تھا تو کبھی کچھ خیال کراب اور اپنے آپ کو مت پائمال کر

مرنے کے ڈر سے اور کہاں تک جئے گا توجینے کے دن تمام ہوئے انتقال کر

اک یاد رہ گئی ہے مگر وہ بھی کم نہیںاک درد رہ گیا ہے سو رکھنا سنبھال کر

دیکھا تو سب کے سر پہ گناہوں کا بوجھ تھاخوش تھے تمام نیکیاں دریا میں ڈال کر

خواجہ کے در سے کوئی بھی خالی نہیں گیاآیا ہے اتنے دور تو علویؔ سوال کر

— محمد علوی