31 اشعار

اب جدھر بھی جاتے ہیں

Ab Jidhar Bhi Jaate Hain

پہلے ایسا ہوتا تھابھانت بھانت کے بندر

شہر کی فصیلوں پرمحفلیں جماتے تھے

گھر میں کود آتے تھےہاتھ میں سے بچوں کے

روٹی نوچ جاتے تھےاب تو وہ مداری بھی

خالی ہاتھ آتا ہےبھیک مانگ کر گھر گھر

گھر کو لوٹ جاتا ہےاب گھروں میں چڑیوں کا

شور کیوں نہیں ہوتارات کو کوئی الو

پیڑ پر نہیں روتاپیڑ پر نہیں روتا

لڑتے لڑتے چڑیاں کیوںفرش پر نہیں گرتیں

بلیاں چھتوں پر کیوںگھومتی نہیں پھرتیں

اب نہ کوئی بلبل ہےاور نہ کوئی مینا ہے

اب نہ کوئی تیتر ہےاور نہ کوئی طوطا ہے

کس سے پوچھنے جائیںمور کیسا ہوتا ہے

ٹولیاں کبوتر کیکھو گئیں فضاؤں میں

تتلیوں کے رنگیں پربہہ گئے ہواؤں میں

منہ اندھیرے اب مرغابانگ کیوں نہیں دیتا

گھر میں کوئی بکری کانام کیوں نہیں لیتا

کیا ہوئے درختوں پرگھونسلے پرندوں کے

کوئی بھی نہیں کہتاقصے اب درندوں کے

ننھے ننھے چوزوں پرچیل کا جھپٹنا اب

دیکھنے کہاں جائیںراستے میں سانڈوں کا

پہروں لڑتے رہنا ابدیکھنے کہاں جائیں

چھپکلی کی جیتی دماب تھرکتی کیا پائیں

رنگ بدلتے گرگٹ کومارتے کہاں جائیں

گائے بھینس کا ریوڑاب ادھر نہیں آتا

اونٹ ٹیڑھا‌ میڑھا سااب نظر نہیں آتا

اب نہ گھوڑے ہاتھی ہیںاور نہ وہ براتی ہیں

اب گلی میں کتوں کابھونکنا نہیں ہوتا

رات چھت پہ سوتے ہیںبھوت دیکھ کر کوئی

چونکنا نہیں ہوتااب جدھر بھی جاتے ہیں

آدمی کو پاتے ہیں

— محمد علوی